بسنت خوشیوں بھرا تہوار یا جان لیوہ ؟
لاہور شہر پاکستان کا تاریخی شہر، نام کانوں پر پڑتے ہی د ماغ میں خوشیوں کا میلوں و جشن کا ،لذیز کھانوں کا رنگبرنگی پتنگوں سے آسمان کا چھپ جانے کا خیال دل میں آتا ہے اور انہی رنگ برنگے پروگراموں میں زندہ دلان لاہور کی محمان نوازی کی ساری دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ اگر بات کی جائے پاکستان کی ثقافت کی تو پاکستان کی مجموعی ثقافت کی ترجمانی لاہور شہر سے ہی کی جاتی رہی ہے اِن میں اپ بات کر لیئں لاہوری کھانوں کی یہ بسنت کی جس نے پوری دنیا کو ہر حالات میں پاکستان کا سفر کرنے پر مجبور کر د یا اور نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں بسنت جیسے تحواروں کا اہتمام کیا جانے لگا۔ بسنت کی تاریخ کے علان کے ساتھ ہی بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانی اور بہت سے غیر ملکی باشندے پاکستان کا رخ کرنے لگتے تھے جس سے پاستان کو خاصا ذرِمبادلہ ملتا رہا ہے اور ساتھ ساتھ پاکستان کا امیج دُنیا میں بہتر طور پر جانا جانے لگا۔
وہ غریب لوگ جن کو ایک وقت کی روٹی نصیب نہ تھی وہ مجبور لوگ اِس پیشے سے جڑ کر اپنے پیاروں کا پیٹ بھرنے کا سبب بنے۔
اگر پتنگ بازی کو ایک پیشے کی نظر سے دیکھا جائے تو صرف لاہور میں ہی لاکھوں لوگوں کا روزگار اِس پیشے سے وابسطہ رہا ہے ،جن میں زیادہ تر تعداد اُن لوگوں کی ہے جو کے اِس پیشے میں کاریگروں کےطور پر کام کرتے رہے ہیں زیادہ سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے۔
مگر اچانک ایسا کیا ہو گیا کے لاہور کی برساں برس کی ثقافت کو پَل میں ختم کر دینے کا آرڈر پاس کر دیا گیا؟ لاکھوں لوگ جو اِس پیشے سے وابسطہ رہے اَن سے ایک بار پوچھنا گوارا نہ سمجھا گیا کے جو فاکے اُن کے گھر میں شروع ہونے والے ہیں اُن کا قفالہ کون ادا کرے گا۔ یہ بات تو بڑی آسانی سے کر دی جاتی ہے کے ہم معصوم لوگوں کی گردنیں نہیں کٹنے دیں گے تو کیا ایک یہ ہی راستہ تھا اس کا کے اس تہوار کو ہی ختم کر دیا جاتا؟ ہمارے حکمرانوں میں اتنی سوجھ بوجھ نہیں ہے کے اگر کسی کام میں کوئی نقصان ہو رہا ہے تو اُس کو بہتر کرنے کا سبب تلاش کیا جانا چاہیے نہ کہ ایسا اقدام اُٹھایا جائے جس سے متاثرین کی تعداد اس فیل سے ہونے والے متاثرین سے زیادہ ہو۔۔ اگر دیکھا جائے تو پتنگ بازی صرف بسنت کے روز ہی نہیں کی جاتی تھی بلکہ پورا سال اس شہر کے لوگ اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے تھے بلکل ایسے ہی جیسے کسی اور کھیل سے۔۔۔
اچھا برا پہلو ہر کام میں ہی ہوجود ہوتا ہے تو ظاہر ہے اِس میں بھی برا پہلوپایا جاتا ہے مگر پہلے یہ دیکھتے ہیں کے اس کھیل سے زیادہ تر کون لوگ جڑ ے ہوئے تھے۔
لاہور شہر کا بہت بڑا حصٌہ ایسا ہے جہاں مناسب گراونڈ میٌسر نہیں ہیں،جہاں زیادہ تر تنگ گلیاں ہیں اور چھوٹے گھر جس کی وجہ سے وہاں کے بسنے والے لوگوں کے پاس تفریح کے ایسے کوئی مواقعے نہیں ہیں جو کے امیر لوگوں کو میسٌر ہیں۔ پتنگ بازی اب ایک ایسا کھیل تھا جس کو نہ تو کسی گراونڈ کی ضرورت تھی اور نہ بہت زیادہ پیسوں کی، اندرون شہر کے لوگ اپنی تنگ گلیوں میں بسنے کے باوجود اپنی چھوٹی چھوٹی چھتوں پر اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے تھے، پتنگ کو اُڑنے کے لیئے کسی گرونڈ کی ضرورت نہ تھی کھلے آسمانوں پر اُڑنے والی پتنگ کو ایک چھوٹی سی چھت سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔
دوسرے کھیلوں کی طرح اس میں بھی دو ٹیمیں ہوتیں تھیں آپس میں پیچ لڑتا تھا جب دو دھاگوں کا آپس میں ملاپ ہوتا تھا، اس کھیل میں بھی دوسرے کھیلوں کی طرح جان اور دماغ لگتا تھا اور آخر میں ایک پتنگ یا پتنگ اُڑانے والا کامیاب ہو جاتا تھا اور پھر ویسے ہی جیسے ایک کھلاڑی کو آوٹ کر کے شور مچایا جاتا ہے ویسے ہی پتنگ کاٹنے والا شور مچا کر ” بو کاٹا ” اپنی کامیابی کا جشن مناتا تھا۔ گیند لگنے سے چوٹ لگتی ہے بلکل ایسے ہی ڈور پھرنے سے ہاتھ پر کٹ لگتا تھا، گلی میں کرکٹ کھیلنے سے پڑوسی کا اکثر شیشہ ٹوٹتا تھا دھاتی تار گرنے سے اکثر بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچتا تھا۔ لہزہ اگر بات کی جائے ڈ ور سے معصوم جانوں کے ضائیہ ہونے کی تو شاید ہی کو ئی ہوش مند شخص اس بات سے انکار کرے کے جان سے بھڑ کر کھیل کی اہمیت ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کے ایسا ہونا کب اور کیوں شروع ہوا کیونکہ پابندی سے پہلے اتنی جانیں کبھی نہیں گیئں جتنی کے پابندی لگنے کے دنوں میں کیئں ہیں، اس کی آخر کیا وجہ ہے کیا یہ ہی وجہ ہے جو حکومت کہتی ہے کے دھاتی ڈور کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کے پابندی لگانے والے اس کھیل سے مکمل لاعلم ہیں وہ نہیں جانتے کے دھاتی ڈور کوئی چیز ہی نہیں ہے پلکے اس کی وجہ تو کچھ اور ہی ہے۔
ان ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ موٹرسائیکلوں کی بھرمار ہے جو کے مشرف دور میں سستی ہونے کی وجہ سے شہر میں بہت زیادہ تعداد میں آ گیئں، اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی چڑائی میں اضافہ ہے جو کے ٹریفک میں اضافہ کی وجہ سے کرنا پڑا، سڑکوں کی چڑائی کی وجہ سے درختوں کی کٹائی بھی اس کی ایک وجہ بنی کیونکہ درخت کٹی ڈور کو سڑک پر پڑنے ہی نہیں دیتے تھے، اس کے علاوہ موٹے دھاگوں کا استعمال، شیشے کا زیادہ استعمال، چرخیوں کا استعمال یہ سب سبب بنے ان ہلاکتوں کی۔ بہرحال حکومت کو یہ حتمی اقدام کرنا پڑا کے اُس نے اس کھیل پر پابندی لگا دی میرا پھر و ہی سوال ہے کے کیا اس کا واحد یہ ہی حل تھا اور کوئی حل نہیں تھا حکومت کے پاس ؟
اگر آپ گزشتہ سال ہی کو لے لیئں تو حکومت نے دو دن کے لیئے بسنت کی اجازت دی جس میں انہوں نے پوٹرسائیکل پر دو روز کے لیئے پابندی لگا دی اور اس بسنت میں کوئی نا خوشگوار واقعہ بھی دیکھنے میں نہیں ایا۔ حکومت نے بسنت نائٹ کی صبح لائسنس کا اجرأ کیا جو کے ہر دکاندار کے لیئے لازم تھا جس سے حکوم بہت حد تک اس کھیل میں نا خوشگوار واقعہ کو بچانے بیں کامیاب ہو گئی، مگر اس بار حکومت کا کہنا یہ ہے کے کائیٹ فائینگ ایسوسی ایشن اس بات کی زمانت دے کے کسی کی گردن نہیں کٹے گی اگر ایسا ہواتو قتل کا مقدمہ اِن کہ خلاف دائر کیا جائے گا، اب سوچنے کی بات یہ ہے کے حکومت اُن سے یہ تقاضہ تب کرے کے اگر اُن کے پاس کوئی اتھارٹی ہو پولیس اُن کے کنٹرول میں ہو، بھلا وہ کیسے اس پر کنٹرول کر سکتے ہیں یہ کام تو حکومت کا ہے ۔ کسی چیز پر پابندی لگانا کوئی حل نہیں ہے کسی بھی قسم کی پابندی سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کے اُس کھیل کے نقصانات کیا ہیں اور فائیدے کتنے اور اگر فائیدے زیادہ ہوں تو نقصانات کو قابو کیسے کیا جائے یہ سوچنا بحرحال حکومت کا کام ہے۔ میرا نہیں خیال کے پتنگ بازی سے ہونے والے نقصانات کو قابو میں نہیں لایا جا سکتا شاید حکومت کے لیئے یہ بہت آسان ہے اُس کا تھوڑا سا خاکہ میں نیچے پیش کر رہا ہوں۔۔۔
سب سے پہلے حکومت پتنگ بازی کا ایک ضابطہ جاری کرے جو کے کائیٹ فائینگ ایسوسی ایشن کے عہدےداروں کی مشاورت سے ترتیب دیا جائے، اُس کے باد پتنگ بازی کے سامان بیچنے والی دُکانوں کے لیئے اُس ضابطہ کے مطابق لائیسنس جاری کیئے جائیں جو کے ٹاون کی سطح پر جاری کیئے جائیں اور اِس لائیسنس کی معقول فیس بھی رکھی جائے اور ضابطہ میں بتایا جا ئے کے کیا سامان رکھنا جائز ہے اور کیا ممنوعہ، اور اس کے لیئے انسپکشن بھی اُن دکانوں کی کی جائے ٹاون سطہ پر ہی۔۔۔۔ جو پیسے ان لائیسنسوں کی بدولت وصول ہوں اُس رقم سے تمام سڑکوں پراوپر والی سطح پر روڈ لائٹس کے کھمبوں پر درمیان میں لوہے کی تار لگائی جائے تاکہ ڈ ور سڑک پر نہ آ سکے اور کبھی بھی نقصان سے بچا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت انہیں پیسوں سے موٹر سائیکل پر لگنے والی راڈ پر سبسیٹی دے اور اُس کو لگانا لازم کرے ورنہ چلان کیا جائے۔
میرے خیال میں اگر حکومت تھوڑا سا اپنا انٹرسٹ دکھائے تو اِس عظیم کھیل کو کسی بھی قسم کہ حادثہ سے پاک کر کے پوری دنیا میں پھر سے اس تہوار کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔ اور اس ثقافتی کھیل کو ہر قسم کے خون خرابے سے محفوز رکھا جا سکتا ہے۔
ہمیں اپنے اس تہوار پر فخر ہونا چاہیئے جو کہ کروڑوں لوگوں کا زریہ معاش بھی ہے اور لاہور شہر کی پہچان بھی۔ کیونکہ اگر ایک بار ہم نے اس تہوار کو کھو د یا تو پھر بعد میں لاکھ کوشیشوں کے باوجود ہم اس تہوار کو زندہ نہیں کر پائیں گے۔







It’s very obvious thing to say that if a thief theft, a robber robbed or any encroachment party usurps any property then what will be the consequence?