Our Network Eat 'n Travel Education Inn Majestic Islam Optograher Politics Pakistan
Politics Pakistan RSS Feed
 
 
 
 

بسنت خوشیوں بھرا تہوار یا جان لیوہ ؟

by Shahrukh Siddique

لاہور شہر پاکستان کا تاریخی شہر، نام کانوں پر پڑتے ہی د ماغ میں خوشیوں کا میلوں و جشن کا ،لذیز کھانوں کا رنگبرنگی پتنگوں سے آسمان کا چھپ جانے کا خیال دل میں آتا ہے اور انہی رنگ برنگے پروگراموں میں زندہ دلان لاہور کی محمان نوازی کی  ساری دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ اگر بات کی جائے پاکستان کی ثقافت کی تو پاکستان کی مجموعی ثقافت کی ترجمانی لاہور شہر سے  ہی کی جاتی رہی ہے اِن میں اپ بات کر لیئں لاہوری کھانوں کی یہ بسنت کی جس نے پوری دنیا کو ہر حالات میں پاکستان کا سفر کرنے پر مجبور کر د یا اور نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں بسنت جیسے تحواروں کا اہتمام کیا جانے لگا۔ بسنت کی تاریخ کے علان کے ساتھ ہی بیرون ممالک میں بسنے والے پاکستانی اور بہت سے غیر ملکی باشندے پاکستان کا رخ کرنے لگتے تھے جس سے پاستان کو خاصا ذرِمبادلہ ملتا رہا ہے اور ساتھ ساتھ پاکستان کا امیج دُنیا میں بہتر طور پر جانا جانے لگا۔

وہ غریب لوگ جن کو ایک وقت کی روٹی نصیب نہ تھی وہ مجبور لوگ اِس پیشے سے جڑ کر اپنے پیاروں کا پیٹ بھرنے کا سبب بنے۔

اگر پتنگ بازی کو ایک پیشے کی نظر سے دیکھا جائے تو صرف لاہور میں ہی لاکھوں لوگوں کا روزگار اِس پیشے سے وابسطہ رہا ہے ،جن میں زیادہ تر تعداد اُن لوگوں کی ہے جو کے اِس پیشے میں کاریگروں کےطور پر کام کرتے رہے ہیں زیادہ سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے۔

مگر اچانک ایسا کیا ہو گیا کے لاہور کی برساں برس کی ثقافت کو پَل میں ختم کر دینے کا آرڈر پاس کر دیا گیا؟ لاکھوں لوگ جو اِس پیشے سے وابسطہ رہے اَن سے ایک بار پوچھنا گوارا نہ سمجھا گیا کے جو فاکے اُن کے گھر میں شروع ہونے والے ہیں اُن کا قفالہ کون ادا کرے گا۔ یہ بات تو بڑی آسانی سے کر دی جاتی ہے کے ہم معصوم لوگوں کی گردنیں نہیں کٹنے دیں گے تو کیا ایک یہ ہی راستہ تھا اس کا کے اس تہوار کو ہی ختم کر دیا جاتا؟ ہمارے حکمرانوں میں اتنی سوجھ بوجھ نہیں ہے کے اگر کسی کام میں کوئی نقصان ہو رہا ہے تو اُس کو بہتر کرنے کا سبب تلاش کیا جانا چاہیے نہ کہ ایسا اقدام اُٹھایا جائے جس سے متاثرین کی تعداد اس فیل سے ہونے والے متاثرین سے زیادہ ہو۔۔ اگر دیکھا جائے تو پتنگ بازی صرف بسنت کے روز ہی نہیں کی جاتی تھی بلکہ پورا سال اس شہر کے لوگ اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے تھے بلکل ایسے ہی جیسے کسی اور کھیل سے۔۔۔

اچھا برا پہلو ہر کام میں ہی ہوجود ہوتا ہے تو ظاہر ہے اِس میں بھی برا پہلوپایا جاتا ہے مگر پہلے یہ دیکھتے ہیں کے اس کھیل سے زیادہ تر کون لوگ جڑ ے ہوئے تھے۔

لاہور شہر کا بہت بڑا حصٌہ ایسا ہے جہاں مناسب گراونڈ میٌسر نہیں ہیں،جہاں زیادہ تر تنگ گلیاں ہیں اور چھوٹے گھر جس کی وجہ سے وہاں کے بسنے والے لوگوں کے پاس تفریح کے ایسے کوئی مواقعے نہیں ہیں جو کے امیر لوگوں کو میسٌر ہیں۔ پتنگ بازی اب ایک ایسا کھیل تھا جس کو نہ تو کسی گراونڈ کی ضرورت تھی اور نہ بہت زیادہ پیسوں کی، اندرون شہر کے لوگ اپنی تنگ گلیوں میں بسنے کے باوجود اپنی چھوٹی چھوٹی چھتوں پر اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے تھے، پتنگ کو اُڑنے کے لیئے کسی گرونڈ کی ضرورت نہ تھی کھلے آسمانوں پر اُڑنے والی پتنگ کو ایک چھوٹی سی چھت سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔

دوسرے کھیلوں کی طرح اس میں بھی دو ٹیمیں ہوتیں تھیں آپس میں پیچ لڑتا تھا جب دو دھاگوں کا آپس میں ملاپ ہوتا تھا، اس کھیل میں بھی دوسرے کھیلوں کی طرح جان اور دماغ لگتا تھا اور آخر میں ایک پتنگ یا پتنگ اُڑانے والا کامیاب ہو جاتا تھا اور پھر ویسے ہی جیسے ایک کھلاڑی کو آوٹ کر کے شور مچایا جاتا ہے ویسے ہی پتنگ کاٹنے والا شور مچا کر ” بو کاٹا ” اپنی کامیابی کا جشن مناتا تھا۔ گیند لگنے سے چوٹ لگتی ہے بلکل ایسے ہی ڈور پھرنے سے ہاتھ پر کٹ لگتا تھا، گلی میں کرکٹ کھیلنے سے پڑوسی کا اکثر شیشہ ٹوٹتا تھا دھاتی تار گرنے سے اکثر بجلی کی تاروں کو نقصان پہنچتا تھا۔ لہزہ اگر بات کی جائے ڈ ور سے معصوم جانوں کے ضائیہ ہونے کی تو شاید ہی کو ئی ہوش مند شخص اس بات سے انکار کرے کے جان سے بھڑ کر کھیل کی اہمیت ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کے ایسا ہونا کب اور کیوں شروع ہوا کیونکہ پابندی سے پہلے اتنی جانیں کبھی نہیں گیئں جتنی کے پابندی لگنے کے دنوں میں کیئں ہیں، اس کی آخر کیا وجہ ہے کیا یہ ہی وجہ ہے جو حکومت کہتی ہے کے دھاتی ڈور کی وجہ سے یہ ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کے پابندی لگانے والے اس کھیل سے مکمل لاعلم ہیں وہ نہیں جانتے کے دھاتی ڈور کوئی چیز ہی نہیں ہے پلکے اس کی وجہ تو کچھ اور ہی ہے۔

ان ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ موٹرسائیکلوں کی بھرمار ہے جو کے مشرف دور میں سستی ہونے کی وجہ سے شہر میں بہت زیادہ تعداد میں آ گیئں، اس کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی چڑائی میں اضافہ ہے جو کے ٹریفک میں اضافہ کی وجہ سے کرنا پڑا، سڑکوں کی چڑائی کی وجہ سے درختوں کی کٹائی بھی اس کی ایک وجہ بنی کیونکہ درخت کٹی ڈور کو سڑک پر پڑنے ہی نہیں دیتے تھے، اس کے علاوہ موٹے دھاگوں کا استعمال، شیشے کا زیادہ استعمال، چرخیوں کا استعمال یہ سب سبب بنے ان ہلاکتوں کی۔ بہرحال حکومت کو یہ حتمی اقدام کرنا پڑا کے اُس نے اس کھیل پر پابندی لگا دی میرا پھر و ہی سوال ہے کے کیا اس کا واحد یہ ہی حل تھا اور کوئی حل نہیں تھا حکومت کے پاس ؟

اگر آپ گزشتہ سال ہی کو لے لیئں تو حکومت نے دو دن کے لیئے بسنت کی اجازت دی جس میں انہوں نے پوٹرسائیکل پر دو روز کے لیئے پابندی لگا دی اور اس بسنت میں کوئی نا خوشگوار واقعہ بھی دیکھنے میں نہیں ایا۔ حکومت نے بسنت نائٹ کی صبح لائسنس کا اجرأ کیا جو کے ہر دکاندار کے لیئے لازم تھا جس سے حکوم بہت حد تک اس کھیل میں نا خوشگوار واقعہ کو بچانے بیں کامیاب ہو گئی، مگر اس بار حکومت کا کہنا یہ ہے کے کائیٹ فائینگ ایسوسی ایشن اس بات کی زمانت دے کے کسی کی گردن نہیں کٹے گی اگر ایسا ہواتو قتل کا مقدمہ اِن کہ خلاف دائر کیا جائے گا، اب سوچنے کی بات یہ ہے کے حکومت اُن سے یہ تقاضہ تب کرے کے اگر اُن کے پاس کوئی اتھارٹی ہو پولیس اُن کے کنٹرول میں ہو، بھلا وہ کیسے اس پر کنٹرول کر سکتے ہیں یہ کام تو حکومت کا ہے ۔ کسی چیز پر پابندی لگانا کوئی حل نہیں ہے کسی بھی قسم کی پابندی سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کے اُس کھیل کے نقصانات کیا ہیں اور فائیدے کتنے اور اگر فائیدے زیادہ ہوں تو نقصانات کو قابو کیسے کیا جائے یہ سوچنا بحرحال حکومت کا کام ہے۔  میرا نہیں خیال کے پتنگ بازی سے ہونے والے نقصانات کو قابو میں نہیں لایا جا سکتا شاید حکومت کے لیئے یہ بہت آسان ہے اُس کا تھوڑا سا خاکہ میں نیچے پیش کر رہا ہوں۔۔۔

سب سے پہلے حکومت پتنگ بازی کا ایک ضابطہ جاری کرے جو کے  کائیٹ فائینگ ایسوسی ایشن کے عہدےداروں کی مشاورت سے ترتیب دیا جائے، اُس کے باد پتنگ بازی کے سامان بیچنے والی دُکانوں کے لیئے اُس ضابطہ کے مطابق لائیسنس جاری کیئے جائیں جو کے ٹاون کی سطح پر جاری کیئے جائیں اور اِس لائیسنس کی معقول فیس بھی رکھی جائے اور ضابطہ میں بتایا جا ئے کے کیا سامان رکھنا جائز ہے اور کیا ممنوعہ، اور اس کے لیئے انسپکشن بھی اُن دکانوں کی کی جائے ٹاون سطہ پر ہی۔۔۔۔ جو پیسے ان لائیسنسوں کی بدولت وصول ہوں اُس رقم سے تمام سڑکوں پراوپر والی سطح پر روڈ لائٹس کے کھمبوں پر درمیان میں لوہے کی تار لگائی جائے تاکہ ڈ ور سڑک پر نہ آ سکے اور کبھی بھی نقصان سے بچا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت انہیں پیسوں سے موٹر سائیکل پر لگنے والی راڈ پر سبسیٹی  دے اور اُس کو لگانا لازم کرے ورنہ چلان کیا جائے۔

میرے خیال میں اگر حکومت تھوڑا سا اپنا انٹرسٹ دکھائے تو اِس عظیم کھیل کو کسی بھی قسم کہ حادثہ سے پاک کر کے پوری دنیا میں پھر سے اس تہوار کو اجاگر کیا      جاسکتا ہے۔ اور اس ثقافتی کھیل کو ہر قسم کے خون خرابے سے محفوز رکھا جا سکتا ہے۔

ہمیں اپنے اس تہوار پر فخر ہونا چاہیئے جو کہ کروڑوں لوگوں کا زریہ معاش بھی ہے اور لاہور شہر کی پہچان بھی۔ کیونکہ اگر ایک بار ہم نے اس تہوار کو کھو د یا تو پھر بعد میں لاکھ کوشیشوں کے باوجود ہم اس تہوار کو زندہ نہیں کر پائیں گے۔

Rent, Buy & Sell Property at Kirayadaar.com

قلم کی سازش

by Shahrukh Siddique

پچھلے دنوں زرداری صاحب ایک جلسہ سےخطاب کرتے ہوئے فرما رہے تھے کے اْن کے خلاف بھی ذلفقارعلی بھٹو کی طرح قلم کی سازش کی جا رہی ہے یعنی اُن کا مطلب تھا کے جو فیصلہ این آر او کا آیا ہے سپریم کورٹ کی طرف سے وہ سراسر اُن کے خلاف سازش ہے جو کے عدلیہ کی طرف سے رچائی جا رہی ہے۔ساتھ میں اُنھوں نے یہ بھی کہا کے اِس طرح کی کسی بھی قسم کی ساذش کو عوام ناکام بنا دیں گے۔

مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کے زرداری صاحب کو یہ غلط فہمی کس نے دے دی ہے کے عوام اُن کے لیئے سڑکوں پر آئے گی۔ رہی بات بھہٹو صاحب کی تو اُن کی جنگ کے پیچھے نظریہ تھا مگر افسوس زرداری صاحب کی جنگ کے پیچھے صرف اُن کی لوٹی ہوئی رقم ہے جو کے اُنھوں نے اُسی قوم کی لوٹی ہوئی ہے جِس کے بارے میں اُن کو غلط فہمی ہے کے وہ اُن کی اس عدالتی جنگ میں اُن کا ساتھ دے گی۔

زرداری صاحب اگر آپ نے اپنے گزشتہ دور میں عوام کے حق میں کوئی ایک بھی اقدام کیا ہوتا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کے یہ ناسمجھ عوام پھر بھی آپ کے ساتھ چل پرتی مگر آپ کی کارکردگی آپ سے بہتر اور کون جان سکتا ہے۔

زرداری صاحب شاید عوام کی طاقت سے ٹکرانے پر مُشر ف کا انجام بھول گئے ہیں۔ وہ اپنے زاتی مفاد کو پورا کرنے کے لیئے پوری قوم کو اس کی سزا دینا چاہ رہے ہیں۔ میرا نہیں خیال کے اِس طرح اِن کی حکومت چند ماہ سے زیادہ چل پائے گی، بیشک یہ انجام جمہوریت کے لیئے زیادہ مفید نہ ہو مگر کیا کرنا ایسی جمہوریت کا جٍس کو بچاتے بچاتے ملک کو ہی نقصان پہنچ جائے۔

اب وقت آگیا ہے کے ہم خود آگے بڑھیں اور اِس ملک کو اِن چوروں سے بچانے کے لیئے سپریم کورٹ کا بھرپور ساتھ دیں ۔ اور سازشوں کا واویلا کرنے والوں کی سازشوں سے اِس مل کو بچائیں۔

Geo! Let Pakistan Live

by Shahrukh Siddique

If we make a close observation of our history it had been always deprived of sincere and straightforward people. Rather saying that I will say it like in our country rotten eggs are not scarce in numbers. A hen that nourished and protects her eggs, bear difficulties even stay hungry, still got some rotten eggs. These rotten eggs always stinks never nurtured.

As it is, we see most often in the movies that a rover boy trapped corrupt girl of a gentle family make her rebel of her house. One day suddenly he came to the house of that girl and stood in front of her family and asked her to come with him. But during that scene the father and brothers of that girl move forward to scuffle with him because they have trust on their daughter/ sister. But what we can say about that time when the girl move ahead and holds the hands of that rover boy. We like these sort of incidents to the limits of movies only. If we imagine this incident happening in our home then the result will be not like that, happened in the movies….

I am telling here the first and second incidents not because I have any interest in discussing a poultry farm or about movies but In fact we are facing these kinds of circumstances since 1947. From that time we are seeing with our open eyes that this country has bestowed us a lot; but the things remain the same as I have said before a rotten egg never get nourishment. Many people have plundered our country and are still plundering it and we the nation is bearing them. If our own people get involved with our enemies and shake hands with them in destroying this nation, this time we will not bear any more.

Whenever any difficult situation came, like Mumbai attacks, our enemies fall upon our national boundaries, as of that boy who came at the door of that gentle family and do hostility to them.

Now some of the patriotic brothers; like that father and his sons move forward confidently to give a stronger answer to these enemies, again with embarrassment what could I say about these venal and conscienceless people who ignored their own country and patriotic brothers. Just to get some petty cash they stood along with India to support it who is our oldest enemy. They show their full participation with India in proving that Ajmal Qasab and other Indian spies were enter into Indian boundaries with the consent of Pakistan. At each and every step during this investigation has Pakistan Government machinery fully support them.

Our wounds of Mumbai incident were not yet heels that these conscienceless people put Aman ki Asha in the grounds. With regret I have to say that Pakistan’s top news channel GEO is also playing in the hands of our enemies. Every literate citizen of Pakistan knows that India always has been like a wolf in lamb’s clothing. They hate intensely to Pakistan and always remain vigorous to find and target the weak points to obliterate itand act as a lampoonist. Pakistan’s top news channel GEO who never stood behind in exploding the scandals of government officials, actors/ actresses etc and patronized programs to discuss these issues. What our enemies are doing explicitly, it has no information about them…? Are they not saying anything and taking no actions because of their business terms? Currently India has behaved pathetically with our national heroes. Instead of taking any action against the IPL (Indian Premier League) GEO is still showing ignorant behavior and is not giving any explanations. They are trying to spread the message of Aman ki Asha but as many times as they will want to do so they will face mortification.

In my opinion bribery and corruption can make us weak economic structure to some extent. But the national boundaries always get ruined due to external intrigue. And all these conspiracies will not succeed until our own people are not involved in it. I am not supporting corruption here. I only wanted to say that by leaving some of the people at one side mostly have commit fraud with this country. But still our country only had face real loss 1971, when our enemy India and the rulers of Bengal get involved with each other to separate Pakistan into two pieces.

In the last I only wanted to say that today everyone is running in the race of accumulation of wealth by ignoring the fact that because of his greed for wealth the enemies of our country are taking an advantage by utilizing him for their own knavish aims.

17 Angry Men

by Shahzaib Siddiq

Have you seen the movie “12 Angry Men”? If you don’t let me give you a summary of that film of 1957. Film was mostly shot in a jury room with 12 jury members who were gathered to give judgment on a murder case involving a teenager as a suspect. At the start of jury’s discussion there was only one man who stood up for that teenager suspect and other 11 refused to favor his decision and the arguments begin!. Well that man one by one convinced all the jury members in 90 minutes of arguments. That film was a super hit and was nominated for Oscars and still rated 7th greatest movie of all in the world. Moral of the movie is that one man alone can change the obvious thing with his wisdom and can build up a team which can destroy every evil no matter how strong that seems to be.

One movie similar to this one is going on in our country where one Man stood up against the strong evil now by this time he has made a team of 17 Angry Men which is destroying every evil in Pakistan like NRO and its beneficiaries and I am sure that if this picture continues for say unlimited time then our country is going to lead the list of all time successful countries and actors of this movie “The 17 Angry Men” will not only be nominated for Oscars but they will win them all!

اِنڈین پریمئیر لیگ

by Shahrukh Siddique

اِنڈین پریمئیر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی نظراندازی پر تعجب کرنے والے لوگوں کی سوچ پر مجھے تعجب ہو رہا ہے، آخر ہم اتنے ہی گِر کئے ہیں کے چند پیسوں کے لئے ہم اپنی عزتیں قربان کرتے جائیں۔ مُشرف دور میں کہیں ہم اپنے بھائیوں کو بیچ رہے تھے پیسوں کی عوز اور اب ڈرون گرائے جا رہے ہیں پیسوں کی عوز، کیا ہم اپنی ساری اقداران ہی لین دین میں قربان کر دیں گے؟

جب تک ہم اپنوں سے محبت شفقت سے پیش نہیں آئیں گے تب تک ہمیں یہ گمان ہر گز نہیں کرنا چاہیئے کے کوئی اور ہماری عزت کرے گا۔ خود اپنے آپ کو اندر سے مظبوط کریں دنیا خود آپ کے پیچھے ہو گی۔

کیا ہماری کرکٹ ٹیم نے اسڑیلیا کے خلاف بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے جو اب یہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے کے اپنا کھیل کچھ دنیا کے لیئے بھی کھیلا جائے۔ میرا خیال ہے نہیں ہمیں پہلے ملکی ٹیم کو فوقیت دینی چاہیئے، جس کے لیئے ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔

شاہدآفریدی، کامران اکمل، عمر اکمل ، رانا نوید الحسن ، سہیل تنویر، عمران نذیر اورمحمد عامر یہ سب اور با قی ٹیم کھلاڑی  پاکستان کے ہیروز ہیں۔اور پوری قوم اِن سے محبت کرتی ہے اِن کا بھی فرض بنتا ہے کے یہ پاکستانی قوم کی اُمیدوں پر پورا اُترے اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے اُن کی خود کی اورقوم کی تزلیل ہو۔

ہمارے کِرکٹ بورڈ کے ممبران کو بھی چاہیے کے وہ پاکستان میں ایسے موقے فراہم کریں تاکہ ہمیں کسی اور ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

این آراو کا تفصیلی فیصلہ جاری۔

by Shahrukh Siddique

سپریم کورٹ کی جانب سے این آراوکا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کے وزیراعظم اپنی بات پر عمل کریں گے جیسا کے انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کے وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مکمل طور پر مانیں گے، جیسا کے آپ جانتے ہوں گے کے سپریم کورٹ نے صدر زرداری کے خلاف بند کئے مقدمات دوبارہ سے کھولنے کا حکم دیا  تھا۔اس کے علاوہ پیپلزپارٹی کے اہم ممبران بھی اس کی لپیٹ میں آئے تھے جن میں وزیرداخلہ  رحمان ملک،وزیردفعاع احمد مختار سر فہرست تھے۔ اب اس تفصیلی فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازھ لگایا جا سکتا ہے کے یا تو اب اس ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا یا وہی کہینچا تانی اور اداروں کی جنگ شروع ہو جائے گی جیسا کے ہمیشہ ہوتا ایا ہے۔ اب یکینن حکومت ٹال مٹول کرے گی مگر سوچنے کی بات یہ ہے کے اخر کب تک ایسا کرتے رہیں گے آخر کار تو اُن کو اپنے کئے کا حساب دینا ہی ہو گا۔۔۔

موت سے نہیں ڈرتا۔ زرداری

by Shahrukh Siddique

زرداری صاحب نے کل فیصل آباد کے دورے میں خطاب کے دوران کہا کے وہ موت سے نہیں ڈرتے اور موت کے پیچھے بھاگتے ہیں ،میں شاید یہ بات سچ      سمجھ لیتا اگر فیس بوک  پر میں اُن کے پروٹوکول کو نہ دیکھ پاتا۔

ویسے ممکن ہے میں ہی غلط ہون،وہ شاید اتنے بڑے کاروان کے ساتھ موت کو ہی ڈھونڈ دہے ہوں اور میں غلط سمجھ رہا ہوں۔ میں وہ لنک ساتھ لگانا چاہتا تھا مگر کیا کرتا اُس وڈیو بنانے والے نے زرداری صاحب پر اپنے جزبات کا اظہار کیا ہے جو کے یہاں دکھانا مناسب نہ ہو گا۔

زرداری صاحب نے یہ بھی کہاکے تین سال میں وہ بجلی،گیں اورروٹی کے سارے مسائل حل کر دیں گے اور مہنگائی کو ختم کر دیں گے۔ میرے خیال میں زرداری صاحب کچھ اور جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں کم از کم وہ یہ ضرورجا نتے ہیں اُن کی حکومت تین سال تو پورے کرنے والی نہیں ورنا وہ کبھی تین سال کی ڈیڈ لائن نہ دیتے۔ اور ویسے بھی عوام اور بھی اِن کی بہت سی ڈیڈ لائن دیکھ چکی ہے،جن کو وہ یہ کہ کر رد کر چکے ہیں کے یہ کوئی حدیس نہیں ہے تو بھلا یہ بات کیسے حدیس ہو سکتی ہے۔

زرداری صاحب پنجابی تو اچھی بول لیتے ہیں کاش وہ سچ بہی اچھا بولنا سیکھ لیئں۔

 

ہمارا دشمن کون؟

by Shahrukh Siddique

بڑے افسوس سے مجھے یہ بات کہنی پر رہی ہے کے ہماری عوام ایک ہوتی ہے صوبائ لڑائ میں،ایک ہوتی ہے فرقوں کی لڑائ میں،ایک ہوتی ہے اپنے ہی ملک میں رہنے والے مغتلف زہن کے لوگوں سے لڑائ میں۔کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کے یہ سب کر کے ہم خوش کس کو کر رہے ہیں؟ہم کیوں اپنوں کو ہی طرح طرح کے الظامات دے کر مار رہے ہیں۔اگر ایک سائیڈ پر ہم تھیک ہیں تو دوسری سائیڈ پر دوسرا گروپ بہی اپنے آپ کو سہی کہتا ہو گا۔ اگر بات کی جائے صوبوں کی تو جہاں کہیں پنجاب سہی ہے تو وہیں سندھ یا دوسرا صوبہ بہی سہی ہوگا۔ ہم نے آخر کیوں اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ لیا ہے آخر ہم ایسا کس کو خوش کرنے کے لیئے کر رہے ہیں؟

کالاباغ ڈیم پر لڑائی ، پنجاب کا فائیدہ ، باقیوں کا نقصان،ہم آپس میں لڑائی کے لئے تو ہر دم تیار ہیں مگر جو ڈیم بھارت بنا رہا ہے جس سے کوئی ایک صوبہ بہی فائیدہ حاصل نہیں کر سکتا بلکہ پورا ملک پانی کے ایسے بہران میں مبتلا ہونے والا ہے جس کااندازہ آئیندہ آنے والی نصلیں ہی لگا سکیں گی۔ پھر شائید لڑنے کا کوئی بہانہ نہ ہو گا تمام صوبوں کے پاس۔ہماری صوبائی لڑائی سے بھارت بڑی مکاری سے فائیدہ حاصل کر رہا ہے جس کا ابھی کسی کو احساس نہیں ہو پا رہا۔

ہم پہلے بھی اسی قسم کی لڑائی میں آدھا ملک گوا بیٹھے ہیں۔ یہ صوبوں کے رکھوالوں کے بلند نارے بھارت کے خلاف نظر کیوں نہیں آتے جو پاکستان کو بانی سے محروم کرنے پر تلا ہوا ہے۔کیا سارا غصَہ اپنوں کے لیئے ہی ہے؟

رحمان ملک صاحب جو بلند آواز میں حکومت کی رٹ کی بات کرتے ہیں مگر ڈرون حملوں پر بےبس نظر آتے ہیں،اپنے اگر بہک گئے تو اُن کو مظاکرات سے سمجھانے کی بجائے مزائل پھنکے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے ہم پاکستان کی رٹ کو کبھی چیلنج نہیں ہونے دیں گے،مگر دوسری طرف امریکہ پاکستان کے علاقوں پر دندناتا روزانہ ہمارے بھائیوں کا خون کر رہا ہے مگر ہمارے رحمان ملک صاحب کو وہاں حکومتی رٹ چیلنج ہوتی نظر نہیں آتی۔ یھ ہم سب کے لئیے شرم کا مکام ہے۔

ہم اپنے دین سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کے ہمیں اسلام کی بات کرتے ہوئے شرم آتی ہے،اور بڑی آسانی سے ہم یہ کہ کر اسلامِک کسی بات کا تمخصراُڑا دیتے ہیں کےیہ طالبان کا دین ہے۔۔۔۔ ہمیں سوچنا چاہئے کے ایک دِن ہم نے مرنا بھی ہے اور پھر اپنے کئیے کا حساب اللہ کو دینا ہے نا کے امریکہ کو،ویسے جیسے جیسے ہم اپنا سب کچھ لٹاتے جارہے ہیں امریکہ پر یہ مرحلہ مجھے کچھ زیادہ دور نہیں نظر آ رہا۔

آخر ہم نے کیوں اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ لیا ہے؟کہیں فرقہ بازی اور کہیںصوبائیت آجر ہم کیوں خود کے دشمن بننے ہوئے ہیں۔

ہمیں اس خود کی لڑائی سے اپنے آپ کو نکالنا ہو گا اگر اپنا کل ہم نے محفوظ کرنا ہے تو۔۔۔۔

آصف زرداری سب جا نتے ہیں

by Shahrukh Siddique

جناب صدر صاحب فرما رھے تھے کے وہ ہر سازش کو جانتے ہین ۔ عوام یہ باخوبی جانتی ہیں کے ہمارے ہر دل عزیز صدر صاحب کیا کچہ جانتے ہین ۔وہ بینظیر صاحبھ کے قاتلوں کو بہی جانتے تہے مگر ابہی تک ان قاتلون کا آوام کو پنہ نہیں چل سکا۔انہوں نے یہ بہی فرمایا ہے کے پاکستان غریبوں کا ہے مگر نہ جانے کیوں زرداری صاحب اس وقت یہ بات کیوں بھول جاتے ہیں جب وہ بجلی،گیس کی قیمتوں میں ڈھیروں اضافہ کر دیتے ہیں اس وقت کیا زرداری صاحب کو بےبس آوام پررحم نہیں آتا؟

زرداری صاحب یہ و ہی آوام ہے جس کے سر پر آپ بلدیاتی الیکشن جیتنے کی بات کرتے ہیں۔بھلا یہ آوام آپ کو ووٹ اب کس بات کا دے گی آوام کو بلکتی مہنگائ بیں دہکیلنے کا؟بات تو سیدھی ہے زرداری صاحب اللھ نے آپ کو بہت اچھاموقعہ دیا آوام کے سامنے اپنی ساکھ پھر سے بنانے کا ۔آوام تو بیچاری سب بھول گئ مگر آپ نہ بھولے اپنا پرانہ وطیرہ ۔

میرا نہیں کھیال اب اوام ان درندوں کو اتنی آسانی سے چھور دے گی اب شاید زرداری صاحب یہ نہیں جانتے کے اب آوام باشعور ہے اب وہ آپ کے پرانے چکروں میں نہیں آئیں گے ۔اب یا تو آپ اپنا وطیرہ بدلیں یا ملک۔

Great Leader Asking For Justice!

by Shahrukh Siddique

benazir bhuttoIt’s very obvious thing to say that if a thief theft, a robber robbed or any encroachment party usurps any property then what will be the consequence?

It’s the simplest thing that the effected person will insist for justice and in return he will also demand his lost inventory back. Besides all these he will demand for punishment the person who hurt him and cause him such a loss.

And if we talk about a murderer then such castigation …?

Is it possible that if a thief theft your inventory and by the fear of being caught offer you that Brother! kindly get your half inventory back and let me out free from here. Isn’t a conscious act to accept his offer?

Pakistan’s largest party Pakistan Peoples Party has lost its eminent leader, Asif Zardari has lost his great wife, Bilawal Bhutto lost his dearest mother and Pakistan has lost another of its great leader.

Is Benazir’s blood so worthless? That in return of her blood, to embow in front of the murderers was being accepted, the post of presidency, higher ministry and some other ministerial posts were obtained that’s it…!

Isn’t enough? If Mohtarma still alive will all these ministries are not under her feet?

How we can compare and weigh such a huge sacrifice and loss with some of such kind of posts. Mr. Zardari said that he knows about the murderers but…!

I want to explain this statement with an example that it’s like of a sacred book which instead of being read kept enshrined, saying that it’s a very sacred book how can we learn from it?

For God sake enveloped these wicked people instead of neglecting the blood of such a great leader. Avoid taking the support of lame pretexts. Erewhile tomorrow the nation will put you in front of the court. Don’t let this happened only to gain your own ends. Because you can forget that great leader but this nation will not disregard and forget its dearest leader and will not endure such an eschew behavior.

rss icon

Subscribe by Email

Enter your email address:

Recent Comments

Popular Posts