اِنڈین پریمئیر لیگ
اِنڈین پریمئیر لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی نظراندازی پر تعجب کرنے والے لوگوں کی سوچ پر مجھے تعجب ہو رہا ہے، آخر ہم اتنے ہی گِر کئے ہیں کے چند پیسوں کے لئے ہم اپنی عزتیں قربان کرتے جائیں۔ مُشرف دور میں کہیں ہم اپنے بھائیوں کو بیچ رہے تھے پیسوں کی عوز اور اب ڈرون گرائے جا رہے ہیں پیسوں کی عوز، کیا ہم اپنی ساری اقداران ہی لین دین میں قربان کر دیں گے؟
جب تک ہم اپنوں سے محبت شفقت سے پیش نہیں آئیں گے تب تک ہمیں یہ گمان ہر گز نہیں کرنا چاہیئے کے کوئی اور ہماری عزت کرے گا۔ خود اپنے آپ کو اندر سے مظبوط کریں دنیا خود آپ کے پیچھے ہو گی۔
کیا ہماری کرکٹ ٹیم نے اسڑیلیا کے خلاف بہت اچھی کارکردگی دکھائی ہے جو اب یہ ضرورت محسوس ہو رہی ہے کے اپنا کھیل کچھ دنیا کے لیئے بھی کھیلا جائے۔ میرا خیال ہے نہیں ہمیں پہلے ملکی ٹیم کو فوقیت دینی چاہیئے، جس کے لیئے ابھی بہت محنت کی ضرورت ہے۔
شاہدآفریدی، کامران اکمل، عمر اکمل ، رانا نوید الحسن ، سہیل تنویر، عمران نذیر اورمحمد عامر یہ سب اور با قی ٹیم کھلاڑی پاکستان کے ہیروز ہیں۔اور پوری قوم اِن سے محبت کرتی ہے اِن کا بھی فرض بنتا ہے کے یہ پاکستانی قوم کی اُمیدوں پر پورا اُترے اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس کی وجہ سے اُن کی خود کی اورقوم کی تزلیل ہو۔
ہمارے کِرکٹ بورڈ کے ممبران کو بھی چاہیے کے وہ پاکستان میں ایسے موقے فراہم کریں تاکہ ہمیں کسی اور ملک پر انحصار نہ کرنا پڑے۔

January 23rd, 2010 at 3:39 pm
Main app say 100% agree hon.
Apna Mulk andehron main duba howa hay or hum chaly dosron ko Roshni denay