ہمارا دشمن کون؟
بڑے افسوس سے مجھے یہ بات کہنی پر رہی ہے کے ہماری عوام ایک ہوتی ہے صوبائ لڑائ میں،ایک ہوتی ہے فرقوں کی لڑائ میں،ایک ہوتی ہے اپنے ہی ملک میں رہنے والے مغتلف زہن کے لوگوں سے لڑائ میں۔کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کے یہ سب کر کے ہم خوش کس کو کر رہے ہیں؟ہم کیوں اپنوں کو ہی طرح طرح کے الظامات دے کر مار رہے ہیں۔اگر ایک سائیڈ پر ہم تھیک ہیں تو دوسری سائیڈ پر دوسرا گروپ بہی اپنے آپ کو سہی کہتا ہو گا۔ اگر بات کی جائے صوبوں کی تو جہاں کہیں پنجاب سہی ہے تو وہیں سندھ یا دوسرا صوبہ بہی سہی ہوگا۔ ہم نے آخر کیوں اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ لیا ہے آخر ہم ایسا کس کو خوش کرنے کے لیئے کر رہے ہیں؟
کالاباغ ڈیم پر لڑائی ، پنجاب کا فائیدہ ، باقیوں کا نقصان،ہم آپس میں لڑائی کے لئے تو ہر دم تیار ہیں مگر جو ڈیم بھارت بنا رہا ہے جس سے کوئی ایک صوبہ بہی فائیدہ حاصل نہیں کر سکتا بلکہ پورا ملک پانی کے ایسے بہران میں مبتلا ہونے والا ہے جس کااندازہ آئیندہ آنے والی نصلیں ہی لگا سکیں گی۔ پھر شائید لڑنے کا کوئی بہانہ نہ ہو گا تمام صوبوں کے پاس۔ہماری صوبائی لڑائی سے بھارت بڑی مکاری سے فائیدہ حاصل کر رہا ہے جس کا ابھی کسی کو احساس نہیں ہو پا رہا۔
ہم پہلے بھی اسی قسم کی لڑائی میں آدھا ملک گوا بیٹھے ہیں۔ یہ صوبوں کے رکھوالوں کے بلند نارے بھارت کے خلاف نظر کیوں نہیں آتے جو پاکستان کو بانی سے محروم کرنے پر تلا ہوا ہے۔کیا سارا غصَہ اپنوں کے لیئے ہی ہے؟
رحمان ملک صاحب جو بلند آواز میں حکومت کی رٹ کی بات کرتے ہیں مگر ڈرون حملوں پر بےبس نظر آتے ہیں،اپنے اگر بہک گئے تو اُن کو مظاکرات سے سمجھانے کی بجائے مزائل پھنکے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے ہم پاکستان کی رٹ کو کبھی چیلنج نہیں ہونے دیں گے،مگر دوسری طرف امریکہ پاکستان کے علاقوں پر دندناتا روزانہ ہمارے بھائیوں کا خون کر رہا ہے مگر ہمارے رحمان ملک صاحب کو وہاں حکومتی رٹ چیلنج ہوتی نظر نہیں آتی۔ یھ ہم سب کے لئیے شرم کا مکام ہے۔
ہم اپنے دین سے اس قدر دور ہو چکے ہیں کے ہمیں اسلام کی بات کرتے ہوئے شرم آتی ہے،اور بڑی آسانی سے ہم یہ کہ کر اسلامِک کسی بات کا تمخصراُڑا دیتے ہیں کےیہ طالبان کا دین ہے۔۔۔۔ ہمیں سوچنا چاہئے کے ایک دِن ہم نے مرنا بھی ہے اور پھر اپنے کئیے کا حساب اللہ کو دینا ہے نا کے امریکہ کو،ویسے جیسے جیسے ہم اپنا سب کچھ لٹاتے جارہے ہیں امریکہ پر یہ مرحلہ مجھے کچھ زیادہ دور نہیں نظر آ رہا۔
آخر ہم نے کیوں اپنے آپ کو چھوٹے چھوٹے گروہوں میں بانٹ لیا ہے؟کہیں فرقہ بازی اور کہیںصوبائیت آجر ہم کیوں خود کے دشمن بننے ہوئے ہیں۔
ہمیں اس خود کی لڑائی سے اپنے آپ کو نکالنا ہو گا اگر اپنا کل ہم نے محفوظ کرنا ہے تو۔۔۔۔